اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے مختلف علاقوں منجملہ دارالحکومت منامہ اور سترہ میں ہفتے کے روز بھی آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوام نے پرامن مظاہرے کئے جن میں حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے جمعیت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان اور اسی طرح بحرین کے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گيا- مظاہرین نے تاکید کی کہ حکومت مخالف شخصیات کی گرفتاریوں سے، جو صرف برحق اور حقوق کی بحالی کے قانونی مطالبات کرتے رہے ہیں، آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوامی جوش و جذبہ مزید بڑھا ہے- دریں اثنا آل خلیفہ کے سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف جارحانہ کاروائیاں کرتے ہوئے ربڑ کی گولیوں کے علاوہ زہریلی آنسوگیس کا بھی استعمال کیا اور عوامی مظاہروں کی سرکوبی کا اقدام کیا- یہ ایسی حالت میں ہے کہ بحرین کے ایک معروف عالم دین سید عبداللہ الغریفی نے کہا ہے کہ آل خلفیہ حکومت کے ظالمانہ اقدامات، بحرین کا بحران، مزید شّدت اختیار کرجانے کا باعث بنیں گے- انھوں نے بحرینی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسائل کو منطقی طور پر حل کرنے کی کوشش کریں اور عوامی مظاہروں کی سرکوبی سے باز آجائیں- ادھر بحرین کی ایک عدالت نے پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے کے جرم میں چھے شہریوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ بحرین میں آزادی و حقوق کے دفاع کے مرکز نے رپورٹ دی ہے کہ آل خلیفہ نے حکومت مخالفین کی شہریت منسوخ کرکے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی پندھرویں شق کی خلاف ورزی کی ہے- بحرین کے اس مرکز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت، بحرینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور وہ مخالفین کی شہریت منسوخ کرکے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے حقوق، پامال کررہی ہے اسلئے کہ شہریت، منسوخ کئے جانے کی صورت میں وہ حکومت مخالف شخص، بحرینی شہری شمار نہیں ہوگا، جس کی بنیاد پر حکومت، اسے ملک بدر کرسکے گی- واضح رہے کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت نے حال ہی میں بہتّر بحرینیوں کی شہریت منسوخ کی ہے جبکہ اس سے قبل وہ، پچاس اور بحرینیوں کی شہریت منسوخ کرچکی ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت نے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانیوں کو بحرین کی شہریت دی ہے کہ جس کا اعتراف، بحرین میں پاکستان کےسفیر نے بھی کیا تھا اور حکومت بحرین کا یہ اقدام بھی، اس ملک میں بحران کے مزید شدّت اختیار کرجانے کا باعث بنا ہے-
















